نئی دہلی 30 جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) کیا یوگا گرو رام دیو پر مودی حکومت مہربان ہے ؟ یہ سوال اس لئے ذہنوں میں پیدا ہورہا ہے کیونکہ خبر ملی ہے کہ بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی کو کسانوں کا سارا ڈاٹا حاصل کرنے اور اسے ایک ’ایپ‘ میں جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اسمارٹ فارمنگ کے نام پر مرکز کی مودی حکومت نے ’پتنجلی‘ کو اس کام کا ٹھیکہ دیا گیا ہے کہ کسانوں کی ڈیموگرافک جانکاریوں سمیت ان کی زمینوں میں اگنے والی فصلوں اور زمینوں کے معیار وغیرہ کا پتہ لگایا جائے۔ ذرائع کی مانیں تو مرکز کی وزارت زراعت اور پتنجلی کے درمیان اس ٹھیکہ کو لے کر یکم جون کوہی دستخط ہوچکے ہیں۔
بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی آرگینک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (پوری) اور مرکزی حکومت کی وزارت برائے زراعت اور کسان فلاح کے درمیان اس معاہدہ کو کسانوں کے لیے ایک بڑا اور بہتر ایکوسسٹم بنانے کی پیش قدمی کے طور پر بتایا گیا ہے۔
ایم او یو پر ایڈیشنل زراعتی سکریٹری وویک اگروال اور پتنجلی کی کمپنی ’پوری‘ کے ہیڈ سرینواس مادبھوسی کے دستخط ہیں۔ یہ معاہدہ 23 مارچ 2023 تک برقرار رہے گا اور اس کے تحت مرکزی حکومت اور پتنجلی دونوں کو کسانوں سے متعلق سبھی جانکاریاں رازدارانہ طریقے سے شیئر کرنے کا اختیار ہوگا۔
حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو نے یکم جون کو اس معاہدہ کے مقصد کو نشان زد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کسانوں کے جمع ڈاٹا بیس سے کسانوں کو دیئے جانے والے فائدے اور مدد دستیاب کرانے میں آسانی ہوگی اور انھیں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے مختلف منصوبوں کا فائدہ مل سکے گا۔ اس کے لیے کسانوں کی مکمل جانکاری جگہ جمع کرنا لازمی ہے۔‘‘ یہاں غور طلب ہے کہ بابا رام دیو کی کمپنی کو ڈاٹا کلیکشن اور ڈاٹا پروسیسنگ اور اینالیسس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔
کسان تحریک سے جڑے ایک ڈاٹا ایکٹیوسٹ نے اس معاہدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’رام دیو کی کمپنی کو ڈاٹا ٹیکنالوجی میں کسی بھی طرح کا تجربہ نہیں ہے، پھر بھی اسے یہ کام سونپا گیا ہے۔‘‘ اس ایکٹیوسٹ کا کہنا ہے کہ پتنجلی کو یہ کام صرف اس کے سیاسی روابط کی بنیاد پر دیا گیا ہے اور اس سے مودی حکومت کے خودکفیل ہندوستان مہم کی بھی تشہیر ہوتی ہے۔
غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ وزارت زراعت ابھی تک تقریباً 5 کروڑ کسانوں کا ڈاٹا پہلے ہی تیار کر چکا ہے۔ حکومت کے پاس وزیر اعظم کسان، سوآئل ہیلتھ کارڈ اور پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے تحت پہلے سے کسانوں کا ڈاٹا موجود ہے۔
ڈاٹا ایکٹیوسٹ کا کہنا ہے کہ ’’حکومت نے مائیکرو سافٹ اور امیزن جیسی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے، لیکن دیگر اسباب سے ان کمپنیوں کے ساتھ ڈاٹا شیئرنگ پر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں، لیکن ڈاٹا تکنیک کے شعبہ میں ان کمپنیوں کے تجربہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ پتنجلی کے پاس تو اس شعبہ میں کوئی تجربہ ہی نہیں ہے، ایسے میں رام دیو کی کمپنی کو کام سونپنا بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔